رشوت لینے کے مقدمے میں این سی سی آئی اے کے افسران کا جسمانی ریمانڈ منظور

لاہور کی مقامی عدالت نے رشوت لینے کے مقدمے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے افسران کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق عدالت نے ملزمان کو 3 دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا ہے، ضلع کچہری لاہور کی مذکورہ عدالت نے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری سمیت دیگر تمام ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا، اس حوالے سے جوڈیشل مجسٹریٹ نے محفوظ کیا جانے والا فیصلہ سنایا۔علاوہ ازیں این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سمیت دیگر افسران کے خلاف درج ایف آئی آر کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں، جن سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مقدمہ یوٹیوبر سعد الرحمان جو ڈکی بھائی کے نام سے مشہور ہیں ان کی اہلیہ عروب جتوئی کی مدعیت میں درج ہوا، جس میں الزام ہے کہ یوٹیوبر کی فیملی سے مجموعی طور پر 90 لاکھ روپے رشوت وصول کی گئی۔ایف آئی آر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ تفتیشی افسر این سی سی آئی اے شعیب ریاض نے ڈکی بھائی کو ریلیف دلوانے کے لیے 60 لاکھ روپے وصول کیے، یہ رقم یوٹیوبر کے دوست عثمان نے دی جو شعیب ریاض نے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے وصول کی، اس کے بعد شعیب ریاض نے ڈکی بھائی کا جوڈیشل ریمانڈ کروانے کیلئے مزید 30 لاکھ روپے لیے، مجوعی رقم سے شعیب ریاض نے 50 لاکھ روپے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے کار شو روم کے مالک کے پاس رکھوائے، 20 لاکھ اپنے پاس رکھے، ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز کو اس رقم میں سے 5 لاکھ روپے دیئے گئے۔ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے رشوت لی اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس پر ایف آئی اے نے لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سمیت 5 مبینہ کرپٹ افسران کو گرفتار کیا، جن میں چوہدری سرفراز بھی شامل ہیں جب کہ مجموعی طور پر9 افسروں کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی نیشنل سائبر کرائم کے افسروں کے غائب ہونے کی کہانی اختتام پذیر ہوگئی کیوں کہ 5 افسران لاہور میں ایف آئی اے نے گرفتار کرلیے، اسلام آباد سے اغواء ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر عثمان کیخلاف بھی لاہور میں مقدمہ درج ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد ایاز خان بھی مقدمہ نامزد ہیں۔




















































